Reciter: Tejani Brothers

زینب یہ صدا دیتی تھی رو کر
عباس بچاو مجھے آ کر

سب جل گئے ہیں خیمے ہمارے
اور ڈھل گیا سورج ہے اندھیرا
سب بیبیاں چلاتی ہیں بن میں
نیزے سے ردا چھنتے ہیں اعدا
کس کو میں پکاروں اے برادر
عباس بچاو مجھے آ کر

بکھرے ہوے ہیں آل محمد
میں ڈھونڈتی ہوں اس کو کہاں ہے
شعلوں میں ہے ڈوبا ہوا خیمہ
سجاد میرا غش میں وہاں ہے
کیسے میں نکالوں اسے جا کر
عباس بچاو مجھے آ کر

میں لٹ گئی ہوں اے میرے بھیا
کوی نہیں میں رہ گئی تنہا
بھای کا کبھی بیٹے کا لاشہ
کس کا میں نے لاشہ نہیں دیکھا
برباد ہوا میرا برادر
عباس بچاو مجھے آ کر

کیا سنتے ہو ای میرے برادر
لب پہ جو سکینہ کا ہے نوحہ
دامن بھی جلا ہے اور گوہر
ظالم نے میرے کانوں سے چھینا
کھاتی ہوں تمانچے ہاے منہ پر
عباس بچاو مجھے آ کر

اشکوں سے ہیں یہ آنکھیں میری نم
سیلاب ہے دل سہہ کے سبھی غم
میں کس کے لیے اشک بہاوں
کس کس کا کروں جا کے میں ماتم
لاشے میں نے دیکھے ہیں بہتر 72
عباس بچاو مجھے آ کر

سہمے ہوے ہیں چھوٹے سے بچے
سب بیبیاں خاموش ہیں بیٹھی
سب کیلے بب کر میں سہارا
پہرے پہ میں آی ہوں اکیلی
ٹوٹی ہوی برچھی کو پکڑ کر
عباس بچاو مجھے آ کر

ملنے کو مجھے آیا ہے بابا
کیا گزری ہے میں کیسے بتاوں
سب داغ جگر سے کہیں بڑھ کر
شرمندہ ہوں منہ کیسے دکھاوں
چادر جو نہیں ہے میرے سر پر
عباس بچاو مجھے آ کر

کربل سے چلے شام کی جانب
کس حال میں سجاد مہاری
گردن میں بندھا طوق سلاسل
پاوں میں تھے جکڑے ہاے بیڑی
تھا بس یہی بیمار کے لب پر
عباس بچاو مجھے آ کر

رستے میں جو آی ہو رکاوٹ
مشکل جو ک ھی ہم کو ہے آی
ہوتی ہیں پریشانیاں سب حل
ہمارا عقیدہ ہے تیجانی
جب بھی ہو صدا اپنی زباں پر
عباس بچاو مجھے آ کر

زینب یہ صدا دیتی تھی رو کر
عباس بچاو مجھے آ کر

Join Khairilamal on WhatsApp

WhatsApp

Leave a Reply