Reciter: Tejani Brothers

آ گیا ہے کاروان بازار شام

گزریں گی کیسے زینب بازار شام سے
واقف نہیں ہیں بی بی پلواے عام سے

احمد کی ہیں نواسیاں سجاد کہہ رہے ہیں
سالار قافلہ جو سو زخم سہہ رہے ہیں
لوگو نہ مارو پتھر ہر اک مقام سے
گزریں گی کیسے زینب بازار شام سے

جس کو سلام خود ہی اللہ کر رہے ہیں
اس بیبیوں پہ ظالم یہ ظلم کر رہے ہیں
محروم کر دیا ہے ان کو سلام سے
گزریں گی کیسے زینب بازار شام سے

شام غریباں میں زینب بن گئی تھی غازی
ہے آج تک امامت باقی زکواتہ ان کی
عابد کو جا کے کائی جلتے خیام سے
گزریں گی کیسے زینب بازار شام سے

زہرا کی ثانی زینب بازار میں کھڑی ہیں
چادر نہیں ہے سر پہ غیرت بھی رو رہی ہے
ہیں ہاتھ اور گردن باندھے لگام سے
گزریں گی کیسے زینب بازار شام سے

نوک سناں پہ ناطق قرآن پڑھ رہا ہے
اور سب کو یہ خبر ہے وہ حق پہ بخدا ہے
اندھے ہوے ہیں ظالم بس اک انعام سے
گزریں گی کیسے زینب بازار شام سے

دربار میں ہے اک سر جو خون رو رہا ہے
شرمندہ ہے وہ غازی دیکھا جو مرحلہ ہے
ظالم نے جو بلایا زینب کو نام سے
گزریں گی کیسے زینب بازار شام سے

زینب نے یہ سکھایا حیدر کی ہوں میں بیٹی
الفاظ اور زبان یہ ہیں ذوالفقار میری
پلٹا دی وہ حکومت اپنے کلام سے
گزریں گی کیسے زینب بازار شام سے

سجاد ہاے غم میں چالیس سال روے
زینب پھری تخجانی در در جو سر برہنہ
تھا عمر بھر یہی نوحہ قلب امام سے
گزریں گی کیسے زینب بازار شام سے

Join Khairilamal on WhatsApp

WhatsApp

Leave a Reply