Reciter: Tejani Brothers

حسین یا حسین، حسین یا حسین

کل یوم عاشورا وکل عرض کربلا
وارث علم نبی، یا حسین ابن علی
تیرے صدقے سے ملی زندگی ہم کو یہی
دشت کربل میں ترا لاشا تیروں پہ پڑا

رو رہی تھی یہ زمیں، آسماں روتا رہا

ہاے مادر یہ تیری بین یا کرتی رہی
اے مرے پیارے حسین! گود میں آو ذرا

تیرے اصغر کا گلا، تیرے اکبر کا جگر
بھای عباس کے غم میں تری ٹوٹی کمر
اور پامال بدن رن میں قاسم کا ہوا
ایک دن میں ہی لٹا کربلا میں ترا گھر

رن میں تلوار بنا آے عباس علی
ہر طرف حملہ ہوا مشق پانی میں چھدی
آنکھ میں تیر لگا اور پیوست ہوا
دونوں بازو کو کٹا کے گرا اسپ جری

ہاے بے شید تیرا بے زباں قتل ہوا
پیاس کے بدلے جسے ظلم کا تیر ملا
القمہ روتی رہی لرضی کربل کی زمیں
تو نے جب اس کا لہو اپنے چہرے پہ ملا

عصر عاشور کا وقت کیسے ہم بھول سکیں
آی آواز اذاں آپ گھوڑے سے گرے
خیمے کے در پہ تری بہن خون روتی رہی
تھا ترا پاک گلا شمر کی تیغ تلے

آگ سے خیمے جلے، سر سے چادر بھی چھنی
دشت میں تنہا سکینہ تری روتی رہی
طوق میں باندھا گیا ترے عابد کا گلا
تیری مظلوم بہن بے ردا شام چلی

تیرے سجدے سے بچا ہے نماز اور قرآن
آج مسجد سے جو آتی ہے آواز اذان
ہم کو کربل نے سکھایا ہے جینے کا ہنر
تیری قربابی سے باقی ہے یہ عرض و سما

آج گھر گھر ہے سجا تیرے غازی کا علم
عمر بھر ہم کو رلاتا رہے گا تیرا غم
ہر گلی اور شہر ترا ماتم ہے بپا
خون بہاتے ہی رہیں گے ترے نام پہ ہم

ہے تیجانی کا قلم اعر فل نوحہ کناں
یہ مقدر ہی ترا کس طرح ہو گا بیاں
جلتی ریتی پہ پڑا ترا لاشہ بے کفن
آپ کے پاک بدن سے ہوا خون رواں

وارث علم نبی یا حسین ابن علی
تیرے صدقے سے ملی زندگی ہم کو یہی

Join Khairilamal on WhatsApp

WhatsApp

This Post Has One Comment

  1. Zoya

    it’s amazing I want to download it

Leave a Reply