Reciter: Tejani Brothers

ہاے سجاد ہاے سکینہ
ہاے سجاد ہاے سکینہ

مجھ کو اپنے ہاتھوں سے کیسے بھای تم دفناو گے

اس ننھی سکینہ نے غم کتنے اٹھاے
گوہر بھی چھنے دامن ظالم نے جلاے
درے بھی لگے مجھ کو لگتے تھے تمانچے
بے حال میرا لاشہ تم کو نہ رلاے
مجھ کو اپنے ہاتھوں سے کیسے بھای تم دفناو گے

جس طرح میرا بابا ہاے بے کفن ہے
جس طرح سے زخموں سے چور اس کا بدن ہے
اس شام کے زندان میں ویسے میرا تن ہے
یہ باپ اور بیٹی کی تقدیر کٹھن ہے
مجھ کو اپنے ہاتھوں سے کیسے بھای تم دفناو گے

معلوم ہے دل غم سے سیلاب ہے تمھارا
آنکھوں نے تیری دیکھا ہے شبیر کا لاشہ
پابند رسن دیکھے زینب کو جو بے پردہ
جب دیکھو گے مجھ کو تو پھٹ جاے گا دل بھیا
مجھ کو اپنے ہاتھوں سے کیسے بھای تم دفناو گے

یہ خون بھری آنکھیں اب دیتی ہیں گواہی
تم آل پیمبر کی دیکھے ہو تباہی
بے پردہ حرم سارے دیکھی ہے خدائی
قسمت ہے یہ بس میری زندان کی سیاہی
مجھ کو اپنے ہاتھوں سے کیسے بھای تم دفناو گے

اک بہن کو دفنانے کس بھای کا دل ہے
ہر ایک مصیبت سے دل درد سے حامل ہے
کس طرح سے ہاتھوں سے اک قبر بنے گی
ہاتھوں میں جو ہے لرزہ اور بند سلاسل ہے
مجھ کو اپنے ہاتھوں سے کیسے بھای تم دفناو گے

جب دادا علی غسل دادی کو دے رہے تھے
زخموں کو دیکھ کر تب حیدر بھی رو رہے تھے
زخموں سے بدن سارا میرا بھی بھرا ہے
اس خستہ بدن کو تم دفناو گے کیسے
مجھ کو اپنے ہاتھوں سے کیسے بھای تم دفناو گے

آتی ہے قضا میری لیکن ہے تمنا
زندان کے اندھیروں میں جب مجھ کو سلانا
اک چھوٹا دیا میری تربت پہ جلانا
اور اہل حرم کا یوں تم بننا سہارا
مجھ کو اپنے ہاتھوں سے کیسے بھای تم دفناو گے

اب بھی ہے یہ تیجانی سکینہ کی گزارش
تم میری زیارت کی ہر دم کرو کوشش
اندھیروں میں سوتی ہوں ہے خاموشی کی بارش
میں بابا سے تمھاری کروا دوں گی بخشش
مجھ کو اپنے ہاتھوں سے کیسے بھای تم دفناو گے

Leave a Reply